Dr Smart Team

محفوظ رہنا: ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی

ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی: محفوظ رہنے کا طریقہ جانیں

ایچ آئی وی/ایڈز، ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی تین خطرناک وائرس سے پھیلنے والی بیماریاں ہیں جو ایک جیسے طریقوں سے منتقل ہو سکتی ہیں۔ خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کے پھیلاؤ کے ذرائع کو جاننا بہت ضروری ہے۔

اہم نکات

سب سے عام پھیلاؤ کا ذریعہ آلودہ سرنج یا سوئی کا استعمال ہے۔ اگر کسی متاثرہ شخص کی استعمال شدہ سوئی دوبارہ استعمال ہو تو وائرس دوسرے شخص میں داخل ہو سکتا ہے۔

یہی خطرہ سرجری، دانتوں کے علاج، ٹیٹوز، یا ایکیوپنکچر میں غیر جراثیم کش آلات استعمال کرنے سے بھی ہو سکتا ہے۔

کبھی بھی سوئی یا سرنج کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

اگر گولیوں سے کام چل سکتا ہو تو انجیکشن یا ڈرپ سے پرہیز کریں۔ اگر انجیکشن لگوانا ضروری ہو تو نئی اور جراثیم سے پاک سوئی استعمال کریں۔

ریزر، ٹوتھ برش یا ذاتی اشیاء کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

ناک، کان چھیدوانے، حجامت، ٹیٹو یا ختنے جیسے کام صرف ان جگہوں پر کروائیں جہاں صاف اور جراثیم سے پاک آلات استعمال ہوتے ہوں۔

جنسی تعلق کے ذریعے بھی یہ وائرس پھیل سکتا ہے۔

مرد و عورت کے درمیان سنگل پارٹنر کے ساتھ خطرہ کم ہوتا ہے، مگر مرد-مرد تعلقات یا متعدد پارٹنرز کی صورت میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

محفوظ طریقے اپنائیں (safe sex practices)۔

اگر متاثرہ خون کا کھلے زخم سے رابطہ ہو جائے تو وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔

خون کو ننگے ہاتھ سے مت چھوئیں۔ دستانے یا پلاسٹک بیگ کا استعمال کریں۔

متاثرہ ماؤں سے پیدا ہونے والے بچوں میں بھی وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔

ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی یا سی سے متاثرہ خواتین اپنے نوزائیدہ بچوں کا ٹیسٹ اور علاج کروائیں۔

ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین بہت مؤثر ہے – ہر شخص کو یہ ویکسین ضرور لگوانی چاہیے۔

ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سی کی ابھی تک کوئی ویکسین دستیاب نہیں، لیکن ان کے لیے مؤثر دوائیں موجود ہیں۔

اگر وائرس کا خطرہ ہو یا آپ متاثر ہوں، تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں۔

صحت مند رہیں اور دوسروں کو بھی صحت مند رکھیں!

یہ وائرس کیسے پھیلتے ہیں؟

یہ وائرس سب سے زیادہ استعمال شدہ یا آلودہ سرنج/سوئی کے ذریعے پھیلتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ایسی سوئی استعمال کرے جس پر وائرس ہو تو اگلے شخص میں وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔ یہی خطرہ حادثاتی سوئی چبھنے سے بھی ہو سکتا ہے۔

اسی طرح شیونگ بلیڈ، جراحی، دانتوں کے علاج، ٹیٹو یا ایکیوپنکچر کے آلات اگر اچھی طرح صاف نہ کیے جائیں تو ان سے بھی وائرس پھیل سکتا ہے۔

حفاظت کے لیے اہم ہدایات

کبھی بھی کسی کے ساتھ سرنج یا سوئی شیئر نہ کریں۔

گولی سے اگر کام چل سکتا ہو تو انجیکشن اور ڈرپ سے پرہیز کریں۔ اگر لگوانا ہو تو نئی اور صاف سوئی استعمال کریں۔

ریزر یا ٹوتھ برش کسی کے ساتھ استعمال نہ کریں۔

ناک، کان چھیدوانا، ٹیٹو، ختنہ یا حجامت کرواتے وقت ہمیشہ صاف آلات استعمال کروائیں۔ شک ہو تو اپنا سامان ساتھ لے جائیں۔

جنسی تعلق سے پھیلاؤ

یہ وائرس جنسی تعلق سے بھی پھیل سکتے ہیں۔ مرد و عورت کے درمیان ایک پارٹنر کے ساتھ خطرہ کم ہوتا ہے، مگر مرد-مرد تعلق یا متعدد پارٹنرز میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

:حفاظتی مشورہ
ہمیشہ محفوظ طریقۂ جنسی تعلق اپنائیں۔

دیگر پھیلاؤ کے ذرائع

اگر متاثرہ خون کسی کھلے زخم سے ٹکرائے تو وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔

خون کے دھبے بغیر دستانے کے نہ چھوئیں۔ دستانے یا شاپر استعمال کریں۔

اگر ماں HIV، ہیپاٹائٹس B یا C سے متاثر ہو، تو بچہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ایسے میں بچے کا فوری ٹیسٹ اور علاج کروائیں۔

ویکسین اور علاج


ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین بہت مؤثر ہے۔ ہر شخص کو یہ ویکسین لگوانی چاہیے۔

ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سی کی ابھی تک کوئی ویکسین موجود نہیں۔ لیکن اگر آپ متاثر ہوں یا وائرس کا خدشہ ہو تو فوری علاج حاصل کریں۔

ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سی کے لیے اب جدید، مؤثر دوائیں موجود ہیں جو بیماری کو قابو میں رکھنے اور پیچیدگیوں سے بچانے میں مدد دیتی ہیں۔

!حیرت انگیز حقیقت

ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی، اور ہیپاٹائٹس سی جیسے وائرس سے بچاؤ اور علاج ممکن ہے۔
اوپر دی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے آپ خود کو اور اپنے پیاروں کو ان خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

مہمان ماہرین

Dr. Muhammad Ahsan Zafar, MD, MSc

Pulmonary & Critical Care University of Cincinnati, USA

Dr Hira Qureshi, MD

Radiology, Henry Ford Hospital, USA